ترک میڈیا کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے توانائی، قابلِ تجدید ذرائع، دفاعی صنعت، سرمایہ کاری اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ صدر اردوان نے اس موقع پر کہا کہ ترکیہ خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور خاص طور پر شام میں امن و بحالی کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کردار ادا کرتا رہے گا۔
صدر اردوان کا کہنا تھا کہ شام کی تعمیرِ نو اور وہاں پائیدار استحکام کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے، جس میں ترکیہ اور سعودی عرب مشترکہ طور پر مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دورے کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ سعودی-ترک بیان میں شام کی حکومت کی جانب سے ملکی سالمیت کے تحفظ اور سول امن کے قیام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا گیا۔ بیان میں شامی سرزمین پر اسرائیلی کارروائیوں اور خلاف ورزیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تمام مقبوضہ شامی علاقوں سے فوری طور پر انخلا کرے۔
مزید پڑھیں: ترک صدر اردوان کی عمران خان کو ترکیہ آنے کی پیشکش،حقیقت کیا ہے ؟
مشترکہ بیان میں فلسطینی علاقوں، سوڈان اور یمن میں جاری بحرانوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
ترکیہ نے یمن بحران کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا، خاص طور پر ریاض میں منعقد ہونے والے جامع مکالمے کو، جس کا مقصد یمن کے مختلف جنوبی دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا تھا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ یمن میں ایسے عناصر کی حمایت کا سدباب کیا جانا چاہیے جو ملک کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
اسی طرح سوڈان کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ملک میں ایک سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل کا آغاز ہونا چاہیے، تاکہ سویلین حکومت کے قیام کے ذریعے دیرپا استحکام ممکن بنایا جا سکے۔
قبل ازیں منگل کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صدر رجب طیب اردوان کا ریاض کے الیمامہ پیلس میں پرتپاک استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی اور بامقصد مذاکرات ہوئے۔
دورے کے اختتام پر صدر اردوان اور ان کا وفد بدھ کے روز ریاض سے روانہ ہو گیا۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض ریجن کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے ترک صدر کو رخصت کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور سفارتی توازن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔







