ترک وزیر خارجہ حکان فیدان نے دارالحکومت انقرہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم کی شوریٰ کونسل کے سربراہ محمد درویش اور ان کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں، انسانی بحران اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر  تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق دونوں جانب سے غزہ میں مستقل اور دیرپا جنگ بندی کے امکانات، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی عوام کی موجودہ مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

 حکان فیدان نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع فلسطینی مسئلے کو دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی مسلسل عالمی سطح پر غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کو اجاگر کررہا ہے۔

 غزہ میں اسرائیلی فوجی موجودگی میں اضافے اور امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےحکان فیدان نے کہا کہ لاکھوں فلسطینی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد جنگ کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی فلسطینی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور ہر بین الاقوامی فورم پر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا، اسلامی ممالک سمیت فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والی ریاستوں کو مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ غزہ میں جاری بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔

ترک وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے یا اقدام کی مخالفت کرتا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے،  فلسطینیوں کی اپنی سرزمین پر موجودگی اور ان کے حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔

ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم  وفد اور ترک قیادت کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے مطالبات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔