غیر ملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ تقریب اتوار کے روز دارالحکومت انقرہ کے مضافات میں واقع مرتد ایئر بیس پر منعقد ہوئی، جہاں محمد علی الحداد اور چار دیگر فوجی افسران کی یاد میں دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جاں بحق لیبیائی افسران ترکیہ میں اعلیٰ سطحی دفاعی مذاکرات کے لیے موجود تھے، جب ان کا طیارہ منگل کے روز حادثے کا شکار ہو گیا۔

تقریب میں ترکیہ کے چیف آف اسٹاف سلجوق بیرقداراوغلو اور وزیرِ دفاع یاشار گولر نے شرکت کی۔ بعد ازاں جاں بحق افسران کی میتیں لیبیا روانہ کر دی گئیں، جہاں ان کی سرکاری سطح پر تدفین کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق لیبیا کے وفد کو لے جانے والا طیارہ انقرہ سے روانگی کے کچھ ہی دیر بعد تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں تمام مسافر اور عملے کے تین افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

محمد علی الحداد، جو لیبیا کے اعلیٰ ترین فوجی افسر تھے، اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ملک کی منقسم مسلح افواج کو متحد کرنے کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی ہلاکت پر نہ صرف اتحادی بلکہ مخالف دھڑوں کی جانب سے بھی تعزیتی پیغامات سامنے آئے۔

الجزیرہ کے مطابق الحداد کو ایک مضبوط مگر امن پسند رہنما کے طور پر جانا جاتا تھا، جو ملک میں مفاہمت اور استحکام کے خواہاں تھے۔ ان کے مخالف رہنما خلیفہ حفتر نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور الحداد کے اہلِ خانہ، قبیلے اور لیبیا کے عوام سے تعزیت کی۔

ترکیہ میں تقریب کے بعد پانچوں تابوت، جو لیبیا کے قومی پرچم میں لپٹے ہوئے تھے، ایک خصوصی طیارے کے ذریعے لیبیا روانہ کیے گئے۔ ترکیہ کے فوجی سربراہ بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔

لازمی پڑھیں: اقوامِ متحدہ کی سوڈان میں فوری جنگ بندی کی اپیل؛  یہ تنازع دنیا کے بدترین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے 

واضح رہے کہ لیبیا 2011 میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہے، جہاں مشرقی اور مغربی حصوں میں متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ ترکیہ مغربی لیبیا کی حکومت کا اہم اتحادی رہا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں اس نے مشرقی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے بھی اقدامات کیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق محمد علی الحداد جیسی ہمہ گیر مقبول شخصیت کا خلا پُر کرنا لیبیا کی موجودہ قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔