تفصیلات کے مطابق استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ شہر کے 124 مقامات پر چھاپے مارے گئے، جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور اہم تنظیمی دستاویزات برآمد ہوئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے حامی اس ہفتے ترکی میں غیر مسلموں کو نشانہ بنانے کے لیے حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔
سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ پولیس نے 115 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، جب کہ مزید 22 افراد کی تلاش جاری ہے۔ پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ گرفتار مشتبہ افراد ترکی سے باہر داعش کے کارکنان سے بھی رابطے میں تھے۔
Turkiye arrests 115 suspected ISIL (ISIS) operatives it says planned attacks on Christmas and New Year celebrations, say officials https://t.co/Ky7duBZXCW pic.twitter.com/WUNKrLshVY
— Al Jazeera English (@AJEnglish) December 25, 2025
واضح رہے کہ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب دو روز قبل ترک انٹیلی جنس ایجنٹس نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر ایک گروپ کے خلاف چھاپہ مارا تھا۔ گرفتاری میں شامل ترک شہری پر الزام ہے کہ وہ خطے میں سرگرم داعش ونگ کے سینئر کمانڈر تھے۔
دوسری جانب پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم اسلام آباد ماضی میں اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔






