اسرائیل کے بیرونِ ملک مقیم افراد سے متعلق امور کے وزیر امیچائی چکلی نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کے چند اہم ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے اسرائیل انتہائی غور سے دیکھ رہا ہے،  ترکیہ، پاکستان اور قطر مختلف علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران ان ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکراتی عمل میں معاون کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں سامنے آئیں،  خطے میں ہونے والی نئی پیش رفت مستقبل کے سیاسی اور سفارتی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

امیچائی چکلی نے ایران سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایسے کسی بھی اقدام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جو ایران کی اقتصادی یا سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتا ہو، ایران کی معیشت کی بحالی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے بڑھتے روابط اسرائیل کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت خطے میں ہونے والی ہر اہم سفارتی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب حکمت عملی اختیار کرے گی،  مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور علاقائی اتحادوں میں تبدیلیاں مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

اسرائیلی وزیر کے بیان کے بعد ترکیہ، پاکستان اور قطر کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی حلقوں میں اس بیان کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، حالیہ برسوں میں ان تینوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی کئی معاملات میں ان کے مؤقف میں ہم آہنگی دیکھی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل ایران کے ساتھ امن معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا ہے، امریکی انٹیلیجنس

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تبدیلیوں، ایران سے متعلق سفارتی سرگرمیوں اور بڑی عالمی طاقتوں کی دلچسپی کے باعث خطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مختلف ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے اتحاد اور شراکت داریاں قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تل ابیب خطے میں ہونے والی سفارتی پیش رفت اور مختلف ممالک کے درمیان بڑھتے روابط کو اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔