قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق فجر سے قبل استنبول کی بڑی مساجد، جن میں آیا صوفیہ گرینڈ مسجد، سلطان احمد، فاتح، سلیمانیہ اور امینونو نئی مسجد شامل ہیں، شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔

مساجد کے صحنوں میں لوگوں نے ترک اور فلسطینی پرچم لہرائے اور غزہ میں جاری جنگ کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

یہ مارچ نمازِ فجر کے فوراً بعد کیا گیا، جس میں مرد، خواتین، نوجوان، سرکاری عہدیداران اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔

الجزیرہ کی ترکیہ سے نمائندہ سینم کوسی اوغلو کے مطابق لوگ نئے سال کے پہلے ہی دن فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔

اس احتجاج میں فٹ بال کلبز نے بھی اپنے مداحوں سے شرکت کی اپیل کی تھی، جبکہ فلسطین کا مسئلہ ترکیہ میں حکمران جماعت اے کے پارٹی سے لے کر بڑی اپوزیشن جماعتوں تک تمام سیاسی حلقوں میں وسیع حمایت رکھتا ہے۔

شدید سرد موسم کے باوجود عوام کی بڑی تعداد مظاہرے میں شریک ہوئی۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، خاص طور پر سلطان احمد اسکوائر کے اطراف، جہاں شرکا کو گرم مشروبات بھی فراہم کیے گئے۔

نماز کے بعد مظاہرین نے گالاتا برج کی جانب مارچ کیا، اس موقع پر وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران اور ریاستی شخصیات بھی موجود تھیں۔ مرکزی پروگرام صبح 8 بج کر 30 منٹ پر مقامی وقت کے مطابق شروع ہوا۔

یہ احتجاج ’’ہم خاموش نہیں رہتے، ہم فلسطین کو نہیں بھولتے‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کا اہتمام ہیومینیٹیرین الائنس اور نیشنل ول پلیٹ فارم نے کیا، جبکہ اس میں 400 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں نے شرکت کی۔

گالاتا برج پر فلسطینیوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور ’’روٹس‘‘ کے نام سے ایک آرٹ انسٹالیشن بھی پیش کی گئی، جس کا مقصد منتظمین کے مطابق غزہ میں ثقافت اور فنونِ لطیفہ کو نشانہ بنائے جانے کی جانب توجہ دلانا تھا۔

اس کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ فنکاروں اور موسیقاروں نے بھی اپنی پرفارمنس پیش کی۔

احتجاج کے دوران فلسطینی جدوجہد کی علامت، معروف کردار حنظلہ کا ایک بڑا بینر بھی آویزاں کیا گیا، جو اس مظاہرے کی نمایاں علامت بن کر سامنے آیا۔

یہ مارچ نہ صرف ترکیہ بلکہ دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں جاری عوامی حمایت کا ایک مضبوط اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔