رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیوبا کے لیے فی الحال کوئی واضح اور جامع منصوبہ موجود نہیں، تاہم حال ہی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کو کیوبا کے لیے ایک ’نمونہ اور انتباہ‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس کارروائی نے ہوانا کو ممکنہ نتائج کا پیغام دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے میامی اور واشنگٹن میں کیوبن جلاوطن گروپوں اور سول سوسائٹی تنظیموں سے ملاقاتیں کی ہیں، تاکہ کیوبا کے اندر کسی ایسے اعلیٰ سرکاری اہلکار کی نشاندہی کی جا سکے جو امریکا کے ساتھ ڈیل کرنے پر آمادہ ہو۔

خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیوبا کو براہِ راست خبردار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں سختی سے مشورہ دیتا ہوں کہ وہ بہت دیر ہونے سے پہلے ایک معاہدہ کر لیں۔

امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر اور یونیورسٹی آف سڈنی کے محقق ڈیوڈ اسمتھ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس شاید یہ سمجھنے میں حد سے زیادہ پرامید ہے کہ محض دھمکیوں کے ذریعے کیوبا کی حکومت کو جھکایا جا سکتا ہے، مگر ایران کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مضبوط اور منظم حکومتیں دباؤ کے باوجود اقتدار برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اوباما دور میں کیوبا اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بحالی کے عمل میں شامل رہنے والے سابق امریکی عہدیدار ریکارڈو زونیگا نے کہا کہ کیوبا کی قیادت وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور ’توڑنا مشکل‘ ہے۔ کیوبا کے اندر شاید ہی کوئی ایسا ہو جو امریکی جانب داری اختیار کرنے پر تیار ہو۔

کیوبا میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کی خواہش امریکا میں کئی دہائیوں سے موجود ہے، جو 1959 کے انقلاب اور فیدل کاسترو کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری ہے۔ امریکا ماضی میں خلیجِ خنزیر کی ناکام یلغار سمیت کئی خفیہ کارروائیاں بھی کر چکا ہے، جب کہ چی گویرا کی ہلاکت بھی اسی تناظر میں دیکھی جاتی ہے۔

کیوبا امریکا کے ساحل سے محض 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور بڑی تعداد میں کیوبن شہری معاشی بدحالی اور سیاسی جبر کے باعث امریکا منتقل ہو چکے ہیں۔ امریکا میں موجود کیوبن کمیونٹی ایک طاقتور سیاسی ووٹ بینک سمجھی جاتی ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جیسے بااثر رہنما بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کا خیال ہے کہ کیوبا کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں اشیائے ضروریہ، ادویات اور بجلی کی شدید قلت ہے۔ واشنگٹن وینزویلا سے تیل کی فراہمی روکنے اور کیوبا کی بیرونِ ملک طبی مشنز کو نشانہ بنا کر دباؤ مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں تو سخت ردعمل دیں گے، صدر ٹرمپ

دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے واضح کیا ہے کہ دباؤ، دھمکی یا جبر کی بنیاد پر کسی قسم کی پسپائی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا کسی بھی طرح کی ’سرنڈر‘ یا ’کپیٹولیشن‘ کو قبول نہیں کرے گا۔

ہوانا میں بڑھتے ہوئے بلیک آؤٹس اور ایندھن کی قلت کے باعث رات کے وقت شہر خاموش نظر آتا ہے، تاہم بعض علاقوں میں شہری برتن بجا کر خاموش احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مقامی شہریوں کے مطابق لوگ شناخت ظاہر ہونے کے خوف سے نعرے لگانے کے بجائے رات کے اندھیرے میں برتن بجاتے ہیں، جو بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکا دباؤ اور مذاکرات کو بیک وقت استعمال کرنے کی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے، تاہم کیوبا کی حکومت ماضی میں بھی سخت امریکی پابندیوں کے باوجود برقرار رہی ہے، جس کے باعث مستقبل کے نتائج غیر یقینی قرار دیے جا رہے ہیں۔