عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسرائیل کے تین سینئر حکام  نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ امریکا کے مطالبات کو کسی نئے مذاکراتی مرحلے میں قبول کرے گا۔ یہ مذاکرات 28 فروری کو اس وقت ختم ہو گئے تھے جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

ان حکام کے مطابق امریکا کے ممکنہ مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب پیر کے روز صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں لڑائی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، تاہم ایران نے اس بیان کے بعد کہا کہ اس نوعیت کے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کو کہا کہ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج اور امریکی فوج کی کامیابیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جنگ کے مقاصد کسی معاہدے کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا معاہدہ اسرائیل کے اہم مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گا۔