عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسرائیل کے تین سینئر حکام نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ امریکا کے مطالبات کو کسی نئے مذاکراتی مرحلے میں قبول کرے گا۔ یہ مذاکرات 28 فروری کو اس وقت ختم ہو گئے تھے جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔
ان حکام کے مطابق امریکا کے ممکنہ مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
Trump wants a deal with Iran but success of talks unlikely, Israeli officials say https://t.co/xkMuK6vys3 https://t.co/xkMuK6vys3
— Reuters (@Reuters) March 24, 2026
دوسری جانب پیر کے روز صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں لڑائی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، تاہم ایران نے اس بیان کے بعد کہا کہ اس نوعیت کے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔
Trump wants to reach a deal with Iran but success of talks unlikely: Report https://t.co/rZrloqU1Kv
— Business Today (@business_today) March 24, 2026
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کو کہا کہ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج اور امریکی فوج کی کامیابیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جنگ کے مقاصد کسی معاہدے کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا معاہدہ اسرائیل کے اہم مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گا۔







