ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل فدوی نے کہا کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادی اس جنگ میں واقعی کامیاب ہوتے تو انہیں دنیا بھر کے ممالک کو ثالثی کے لیے جمع کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی،موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مخالف فریق جنگ کو طول دینے کے بجائے اسے روکنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔
انہوں کہا کہ امریکی صدر گزشتہ منگل سے مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے جنگ بندی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں،ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ملک کی مسلح افواج اپنی دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ ہر ممکن صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ریاست کینٹکی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے مختلف دعوے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ گیارہ دنوں میں امریکی فوج نے ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی افواج نے ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو کمزور کر دیا ہے اور متعدد بحری جہازوں اور بارودی سرنگوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اس جنگ میں پہلے ہی گھنٹے میں کامیابی حاصل کر چکا تھا، تاہم اپنے اہداف مکمل ہونے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: ایران کا بحری و فضائی دفاعی نظام تباہ، جب چاہوں جنگ ختم کر سکتا ہوں: ڈونلڈ ٹرمپ
واضع رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،اگر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بحال نہ ہوئے تو اس تنازع کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتے ہیں۔







