برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حماس کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ جب تک اسرائیلی قبضہ جاری ہے، مزاحمت کے ہتھیار ایک سرخ لکیر ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے گزشتہ رات وائٹ ہاؤس میں طے پانے والے مجوزہ امن منصوبے پر اتفاق کرتے ہوئے حماس کو خبردار کیا کہ وہ اس منصوبے کو قبول کرے یا پھر اسرائیل کو مطلوبہ کارروائیوں کے لیے امریکی حمایت حاصل رہے گی۔
خبررساں ادارے کے مطابق مطابق وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع اس 20 نکاتی منصوبے کے مطابق حماس کو 72 گھنٹوں کے اندر 20 زندہ یرغمالیوں اور دو درجن سے زائد یرغمالیوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کرنا ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق جس کے عوض غزہ میں فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس تجویز کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید درجنوں غزہ کے باشندوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اگر دونوں فریق اسرائیل اور حماس اگر اس پر اتفاق کر لیتے ہیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی اور غزہ کی پٹی میں فوری طور پر مکمل انسانی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس معاہدے کے نفاذ کے بعد اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے ہٹیں گی اور غزہ میں امن و بحالی کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ حماس اپنے ہتھیار ڈالے اور ساتھ ہی اس کی سرنگیں اور ہتھیار سازی کے مراکز کو تباہ کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت ہر اسرائیلی یرغمالی کی باقیات کے بدلے 15 فلسطینیوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ فوری طور پر بجلی، پانی، طبی سہولیات، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی اور اقوامِ متحدہ اور غیرجانبدار بین الاقوامی اداروں کے ذریعے امداد تقسیم کی جائے گی۔
اس منصوبے کو امریکہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ’اقتصادی ترقی کا منصوبہ‘ کہتا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل غزہ پر قبضہ یا اس کا الحاق نہیں کرے گا‘ اور اس کی افواج وقت کے ساتھ ساتھ اس علاقے سے مرحلہ وار واپس جائیں گی۔
منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بجائے کہا گیا ہے کہ ’ہم لوگوں کو وہاں رہنے کی ترغیب دیں گے اور انھیں ایک بہتر غزہ کی تعمیر کا موقع فراہم کریں گے۔
منصوبے میں غزہ کی عارضی حکمرانی کے لیے ایک ’ٹیکنوکریٹک اور غیرسیاسی فلسطینی کمیٹی‘ تجویز کی گئی ہے جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی عبوری باڈی یعنی ’بورڈ آف پیس‘ کرے گی
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ اس باڈی کی سربراہی امریکی صدر کریں گے، جب کہ برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم سر ٹونی بلیئر کو اس گورننگ باڈی کا حصہ بنایا جائے گا۔
برطانوی وزیرِ اعظم سر کیر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے منصوبے کا خیرمقدم کیا اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
فلسطینی اتھارٹی نے اس منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ’مخلصانہ اور پرعزم‘ کوشش قرار دیا اور کہا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے، انسانی امداد کی مناسب فراہمی اور یرغمالیوں و قیدیوں کی رہائی کے لیے امریکہ، خطے کی ریاستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
فلسطینی نیوز ایجنسی وفا پر شائع ہونے والے بیان میں فلسطینی اتھارٹی نے ان نکات پر زور دیا کہ انسانی ضروریات اور یرغمالیوں کی واپسی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
عالمی سطح پر برطانیہ اور فرانس نے منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے، جب کہ قطر اور مصر نے دوحہ میں موجود حماس کی قیادت کو وائٹ ہاؤس کے منصوبے سے آگاہ کر دیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی امریکی صدر کے اس 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کا باعث بنے گا۔
شہباز شریف نے لکھا کہ ان کا پختہ یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اس انتہائی اہم اور فوری تفہیم کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے ہر طرح سے مدد کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور وہ صدر ٹرمپ کی قیادت اور اس جنگ کے خاتمے میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف کا کردار قابل تحسین ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اٰن کا پختہ یقین ہے کہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضرور کیا جائے گا۔







