برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران، جہاں یورپی رہنما اتحاد کے اندر موجود اختلافات ختم ہونے کی امید کر رہے تھے لیکن صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اسپین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بہت برا اتحادی قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے اجلاس کے دوران نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کسی معاملے پر راضی نہیں ہوتا، اس لیے اس کا بوجھ نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اسپین کے ساتھ کوئی تجارت نہیں کرنا چاہتا۔

امریکی صدر نے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو ہدایت کی کہ اسپین کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا، اسپین سے بات بھی نہ کریں، وہ برے لوگ ہیں، وہ ہم سے بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں، اب ہم دیکھیں گے کہ وہ کم کمائیں۔

اسی اجلاس کے دوران ٹرمپ نے ڈنمارک سے متعلق بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ پر امریکا کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ اس پر ڈنمارک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا۔

دوسری جانب اسپین کے وزیراعظم کے دفتر نے ٹرمپ کے بیانات کو معمول کی بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں کوئی تبدیلی لانے کا ارادہ نہیں۔

اسپین کے وزیراعظم کے دفتر کے مطابق اسپین کا امریکا کے ساتھ تجارتی خسارہ ہے، یعنی وہ امریکا سے زیادہ درآمدات کرتا ہے اور کم برآمدات کرتا ہے۔ 

بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک کے معاشی تعلقات بنیادی طور پر نجی کمپنیوں کے ذریعے قائم ہیں، جب کہ یورپی کسٹمز اور تجارتی اتحاد کا حصہ ہونے کی وجہ سے کسی ایک یورپی ملک کو الگ کرکے تجارتی پابندیوں کا نشانہ بنانا آسان نہیں۔