اسرائیلی صدر کے دفتر کے مطابق، ٹرمپ نے ایک خط میں یہ درخواست کی، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی عدالتی نظام کی آزادی کا احترام کرتے ہیں، تاہم ان کے بقول نیتن یاہو کے خلاف مقدمات سیاسی اور بلاجواز ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے خط میں لکھا کاس تاریخی موقع پر آپ کو مخاطب کرنا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ ہم نے مل کر  اور حقیقتاً صدیوں سے  امن کی راہ تلاش کی ہے اور آج میں ایک بار پھر آپ کی مہربان اور گرمجوش مہمان نوازی کا تہۂ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 میں اس خط کے ذریعے کنیسِیٹ میں اپنی تقر یر کے اہم موضوعات میں سے ایک کی طرف اشارہ کر رہا ہوں۔

ٹرمپ نے لکھا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اسرائیل کی عظیم قوم اور آپ کا حیرت انگیز عوام گزشتہ تین سالوں کے سخت دور سے گزر رہا ہے۔

 ایسے نازک موقع پر میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ بی۔نیتن یاہو کو مکمل معافی دینے پر غور کریں، وہ ایک ایسے وزیرِ اعظم رہے ہیں جو جنگ کے لمحوں میں مضبوط اور فیصلہ کن قیادت دکھا چکے ہیں اور اب امن کی طرف ملک کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

میری یہ سفارتی کوششیں اسی امن کے مقصد کا حصہ رہی ہیں جن میں مشرقِ وسطیٰ کے متعدد اہم رہنماؤں کے ساتھ مصروفِ عمل رہنا اور متعدد ریاستوں کے لیے ابراہم  معاہدات کی راہ ہموار کرنا شامل ہے۔

وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے طویل مزاحمت اور مخالفانہ حالات کے باوجود اسرائیل کے مفاد میں ثابت قدمی دکھائی ہے۔ ان کی توجہ اور قیادت کو غیر ضروری سیاسی خلفشار سے منتشر ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

ٹرمپ نے خط میں لکھا کہ میں اسرائیل کے عدالتی نظام کی خود مختاری اور آزادی کا احترام کرتا ہوں، میری رائے میں موجودہ مقدمات جن کے خلاف بی بی کھڑے ہیں، سیاسی نوعیت کے اور بلاجواز محسوس ہوتے ہیں خصوصاً اس پیش نظر کہ انہوں نے طویل عرصے تک ایران مخالف پالیسی میں میرا ساتھ دیا ہے۔


محترم اسحاق، ہمارے مابین جو قریبی تعلق قائم ہوا ہے اس کے لیے میں آپ کا ممنون ہوں۔ ہم نے جنوری میں اس اتفاقِ رائے پر زور دیا تھا کہ ہماری اولین ترجیح گیری یرغمالیوں کی واپسی اور حقیقی امن معاہدات پر مرکوز ہوگی۔

 اب جب ہم نے بعض قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کر لی ہیں اور حماس کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں، تو میرا مؤقف یہی ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ بی بی کو معاف کر کے قوم کو متحد کرنے کی راہ ہموار کی جائے اور اس طرح اس طرح کے تنازعات کے مستقل سیاسی اثرات کو کم کیا جائے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، کسی بھی شخص کو صدر کی جانب سے معافی دلوانے کے لیے باضابطہ قانونی طریقۂ کار کے تحت درخواست جمع کرانا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں اسرائیل کے دورے کے دوران بھی ٹرمپ نے کینیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ہرزوگ پر زور دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کو معافی دینے پر غور کریں۔

نیتن یاہو پر 2019 میں تین کرپشن کیسز میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کاروباری شخصیات سے تقریباً 7 لاکھ شیکل (تقریباً 2 لاکھ 11 ہزار امریکی ڈالر) مالیت کے تحائف وصول کیے۔

اگرچہ اسرائیلی صدر کا عہدہ بڑی حد تک علامتی نوعیت کا ہے، تاہم ان کے پاس مخصوص اور غیر معمولی حالات میں سزا یافتہ افراد کو معاف کرنے کا آئینی اختیار موجود ہے۔