اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں تہران میں غیر فوجی اہداف پر ممکنہ حملوں پر سنجیدہ غور شروع کر دیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال ایران پر حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہروں کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے تیرہویں روز بھی جاری ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ان واقعات میں 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ روز معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپوں کے دوران اموات کی تعداد 217 تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی صدر نے حال ہی میں ایرانی قیادت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکا اس عمل میں مدد کے لیے تیار ہے۔