اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک اسرائیل حامی ایکٹوسٹ کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایرانی قیادت کے نام پیغام میں کہا کہ وہ ان خواتین کی رہائی کو سراہیں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات متوقع ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں ان خواتین کی رہائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھوں گا، براہِ کرم انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ان کی رہائی مذاکرات کے لیے ایک مثبت آغاز ہو سکتی ہے۔


پوسٹ میں ان آٹھ خواتین کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں، تاہم ان میں سے صرف ایک خاتون کی شناخت ہو سکی ہے، جو رواں سال حکومت مخالف مظاہرے میں شریک بتائی جا رہی ہے، جب کہ دیگر خواتین کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان خواتین کی ایران میں قید یا سزائے موت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

خیال رہے کہ اس نوعیت کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ایسے مطالبات کو مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔