بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایرانی رہنماؤں کو امریکا کے خلاف اپنے جرائم کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کے لیے ملک کے اندر جوش و خروش کی کمی سے متعلق سوال پر لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ اتنے سمجھ دار ہیں کہ وہ اس کمرے میں موجود صحافیوں کی جانب سے بنائی جانے والی ان جعلی خبروں کی سرخیاں پڑھ سکتے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اقدام بلا جواز تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک بدمعاش اور دہشت گرد حکومت ہے جو گزشتہ 47 برسوں سے امریکا، اس کے اتحادیوں اور اس کے عوام کو دھمکیاں دیتی آ رہی ہے اور امریکی عوام اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
لیویٹ نے تنازعے سے متعلق انتظامیہ کے دیگر مؤقف کو بھی دہرایا اور امریکی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے ایرانی رہنماؤں کو بار بار دہشت گرد قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ان سفاک دہشت گردوں کو ہلاک کرنا امریکا کے مفاد میں ہے اور اس سے دنیا کو زیادہ محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ماضی کے امریکی صدور ایران کے خلاف بہت کمزور تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ مین آف ایکشن ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی کارروائیوں کا مقصد تہران کے جوہری عزائم کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔
پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سپین نے اب امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
HOLY SHT 🚨 Karoline Leavitt just announced that Spain has caved after Trump threatened Tariffs on them for not cooperating with our Military
— MAGA Voice (@MAGAVoice) March 4, 2026
PROOF THAT TARIFFS WORK VERY WELL
I VOTED FOR THIS pic.twitter.com/v9WyoDfZQA
یاد رہے کہ سپین نے امریکا کو ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد گذشتہ صدر ٹرمپ نے سپین کے ساتھ تمام تجارت کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔
تاہم اب لیویٹ کا کہنا ہے کہ سپین کو ٹرمپ کا واضح پیغام پیغام مل چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر کو توقع ہے کہ تمام یورپی اتحادی اس آپریشن میں تعاون کریں گے۔






