عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے خط میں لکھا کہ وہ گرین لینڈ کے معاملے پر ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ڈنمارک اس خطے کو روس یا چین سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ڈنمارک آخر اس جزیرے پر ملکیت کا حق کس بنیاد پر قائم رکھے ہوئے ہے۔ اس حوالے سے کوئی تحریری دستاویز موجود نہیں، محض یہ کہا جاتا ہے کہ سینکڑوں سال پہلے وہاں ایک کشتی اتری تھی، حالانکہ ہماری کشتیاں بھی وہاں پہنچی تھیں۔

امریکی صدر نے لکھا کہ انہوں نے نیٹو کے لیے اس کے قیام کے بعد سے کسی بھی دوسرے فرد سے بڑھ کر کام کیا ہے اور اب نیٹو کو بھی امریکا کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق دنیا اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک کہ امریکا کو گرین لینڈ پر مکمل اور حتمی کنٹرول حاصل نہ ہو۔

دوسری جانب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ڈنمارک گرین لینڈ سے روسی خطرے کو دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکا، اس لیے اب اس کا وقت آ گیا ہے اور یہ ہو کر رہے گا۔

واضح رہے کہ گرین لینڈ، ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے، جب کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ یہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی امریکا کا حصہ بننے کی کوئی خواہش موجود ہے۔ تاہم امریکی صدر نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر اپنے ملک کی ملکیت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز اس وقت اپنے لہجے میں سختی پیدا کی جب ڈنمارک کی مشقوں کے فریم ورک کے تحت یورپی فوجیوں کو جزیرے پر بھیجا گیا۔

انہوں نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ اور فن لینڈ نامعلوم مقاصد کے لیے گرین لینڈ گئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک جو یہ خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، ایک ایسے راستے پر گامزن ہو چکے ہیں جو ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشت ہے۔

یاد رہے کہ ان آٹھ یورپی ممالک نے، جنہیں امریکی صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کے عزائم کی مخالفت کرنے پر اضافی تجارتی محصولات (ٹیرف) کی دھمکی دی تھی، اتوار کے روز اپنے متحد موقف کی توثیق کی، جب کہ یورپی یونین ممکنہ جوابات پر غور کر رہی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، اتوار کی شام برسلز میں یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے سفیروں کا ہنگامی اجلاس شروع ہوا۔ اگرچہ اس اجلاس سے فوری نتائج کی توقع نہیں ہے، تاہم یہ ٹرمپ کی نئی دھمکیوں کے جواب میں مختلف آراء کے تبادلے کا موقع فراہم کرے گا۔

اسی دوران، ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ نے ناروے، برطانیہ اور سویڈن کا سفارتی دورہ شروع کیا ہے، جو نیٹو کے اتحادی ممالک ہیں۔ اس دورے کا مقصد قطبِ شمالی کے خطے کی سکیورٹی میں نیٹو کے کردار کو بڑھانے پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔ ناروے کے دورے کے دوران راسموسن نے متنبہ کیا کہ عالمی نظام اور نیٹو کا ’’مستقبل‘‘ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

برطانیہ، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، ناروے اور سویڈن نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تجارتی محصولات کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو کمزور کرتی ہیں اور سنگین بگاڑ کا پیش خیمہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے ردِ عمل میں متحد اور مربوط رہیں گے اور اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔