اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اطالوی وزیراعظم نے بار بار میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کی درخواست کی۔ انہوں نے فرانس میں ہونے والے جی 7 اجلاس کے دوران بھی میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ اٹلی میں جارجیا میلونی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے جا رہا ہے۔ ان کے بقول میلونی کی مقبولیت میں کمی کی ایک وجہ شاید ایران کے معاملے پر امریکا کا ساتھ نہ دینا ہے، کیونکہ جارجیا میلونی نے امریکا کو اٹلی کے رن ویز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اٹلی اور دیگر نیٹو اتحادیوں کے تحفظ کے لیے سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اب جب امریکا نے ایران کو شکست دی ہے تو میلونی اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے دوبارہ دوستی کرنا چاہتی ہیں، مگر نو تھینکس۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اطالوی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جارجیا میلونی نے جی 7 اجلاس کے دوران ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے بہت منت سماجت کی تھی۔

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں واقعی حیران ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ امریکا کا صدر اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کرتا ہے، اور یہ پہلی بار نہیں ہے۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکا اور اٹلی کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے، جب کہ اطالوی وزیر خارجہ نے آئندہ ہفتے امریکا کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا۔