داؤوس میں ٹرمپ نے صدر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کی، جوکہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی، جسے ٹرمپ نے اچھی ملاقات قرار دیا، تاہم بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صدر زیلنسکی کے ساتھ میری ملاقات اچھی رہی، یہ ایک جاری عمل ہے۔
پیوٹن کے لیے پیغام کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکی اور یوکرینی حکام گزشتہ کئی ہفتوں سے سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، کیونکہ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کییف پر دباؤ بڑھ رہا ہے، حالانکہ ماسکو کی جانب سے لڑائی روکنے کے واضح اشارے نہیں ملے۔ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
صدر زیلنسکی نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ داؤوس کا سفر اسی صورت میں کریں گے اگر امریکا یوکرین کو سیکیورٹی ضمانتوں اور جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے مالی امداد پر معاہدوں پر آمادہ ہو، تاہم ملاقات کے بعد کسی بڑی پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے یوکرین اسٹیو وٹکوف نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں فریق جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہم اسے حل کر لیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم نے کافی پیش رفت کی ہے۔
وٹکوف نے بتایا کہ وہ اور امریکی ایلچی جیرڈ کشنر، جو صدر ٹرمپ کے داماد بھی ہیں، جمعرات کو ماسکو میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ ان مذاکرات میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر بات چیت متوقع ہے۔ مذاکرات کے بعد امریکی وفد ابوظہبی روانہ ہوگا، جہاں فوجی سطح پر بات چیت اور جنگ کے بعد خوشحالی کے پیکج پر گفتگو کی جائے گی۔
روس نے امریکی قیادت میں امن کوششوں پر محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ یوکرین مشرقی ڈونیسک کے بعض علاقوں سے دستبردار ہو، جن پر ماسکو مکمل قبضہ حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی رہنماؤں کے بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط، اگر حماس نے ہتھیار نہ چھوڑے تو ان کا خاتمہ ہوگا
روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین تصفیے، منجمد روسی اثاثوں کو تعمیر نو کے لیے استعمال کرنے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ "بورڈ آف پیس" کی تجویز پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ بورڈ اقوام متحدہ کے کردار کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب روس نے یوکرین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جنوبی علاقے اوڈیسا میں ایک ڈرون حملے میں 17 سالہ نوجوان ہلاک ہو گیا، جب کہ وسطی شہر کریوی ریح میں بیلسٹک میزائل حملے سے 11 افراد زخمی ہوئے۔ دارالحکومت کییف میں حالیہ حملوں کے باعث تقریباً 3 ہزار بلند عمارتیں تاحال ہیٹنگ سے محروم ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے باعث امید پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں یوکرین کے بین الاقوامی بانڈز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔







