اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل  پر جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے دوران ہر قسم کی عسکری کارروائیاں معطل رہیں گی جب کہ دونوں ممالک ایک، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ روس میں 9 مئی کو دوسری جنگِ عظیم میں فتح کا دن منایا جاتا ہے، جب کہ یوکرین بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کرنے والے ممالک میں شامل تھا، اسی لیے یہ جنگ بندی دونوں ممالک کے لیے علامتی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ درخواست براہِ راست ان کی جانب سے کی گئی تھی، جس پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتفاق کیا۔


امریکی صدر نے دونوں رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ فریقین امن معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی ایک طویل، خونریز اور تباہ کن جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل روس نے یومِ فتح کے موقع پر دو روزہ یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جب کہ یوکرین کا مؤقف تھا کہ اس نے بھی جنگ بندی کی پیشکش کی تھی مگر ماسکو نے اس پر توجہ نہیں دی۔