ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی امریکی فہرست سے نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ ہاں، میں ایسا کروں گا۔
امریکا پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ شام کی اس درجہ بندی پر نظرثانی کر رہا ہے، جس کے تحت شام پر امریکی مالی معاونت، دفاعی برآمدات اور مختلف مالیاتی لین دین پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت شام پر عائد امریکی پابندیوں کے ایک بڑے پروگرام کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس فیصلے کا مقصد شام کو عالمی مالیاتی نظام میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع فراہم کرنا اور برسوں کی خانہ جنگی سے متاثرہ ملک کی تعمیرِ نو میں مدد دینا بتایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی متعدد کمپنیاں شام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، جب کہ دیگر خلیجی ممالک نے بھی شام کی اقتصادی بحالی کے لیے مالی تعاون کا وعدہ کیا ہے۔
#BREAKING US President Donald Trump met with the head of the Syrian regime, Ahmed al-Sharaa, in Ankara.
— The National Independent (@NationalIndNews) July 8, 2026
Trump said the United States would remove Syria from its list of state sponsors of terrorism. pic.twitter.com/tlBrLLKoKn
امریکا نے حال ہی میں شام سے متعلق اپنی بیشتر پابندیاں ختم کر دی ہیں اور سیزر ایکٹ بھی منسوخ کر دیا ہے، جس کے تحت سابق شامی صدر بشار الاسد، ان کے قریبی ساتھیوں، اداروں اور ان سے وابستہ کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔
تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بشار الاسد، ان کے ساتھیوں، مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر پر پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔
صدر ٹرمپ نے شامی صدر احمد الشرع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب کی نظر میں قابلِ احترام ہیں، میرے نزدیک بھی۔
یاد رہے کہ احمد الشرع ماضی میں القاعدہ سے وابستہ النصرہ فرنٹ کے کمانڈر رہ چکے ہیں، تاہم انہوں نے 2016 میں اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
بعد ازاں انہوں نے مختلف اسلام پسند باغی گروپوں کے اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے 2024 کے اواخر میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ احمد الشرع نے خطے میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔







