برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس پیش رفت سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس مرکز کو بند کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ ناقدین اسے پہلے ہی ایک ناکام اقدام قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیل میں قائم اس مرکز کی ممکنہ بندش کو صدر ٹرمپ کے غزہ سے متعلق وسیع تر منصوبے کے لیے ایک دھچکا سمجھا جا رہا ہے، جو جنگ بندی کے باوجود جاری حملوں اور حماس کی جانب سے ہتھیار نہ ڈالنے کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ بندی کی نگرانی اور امدادی سرگرمیوں میں ہم آہنگی کے لیے امریکی کوششوں کو عملی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک جانب اسرائیل نے غزہ کے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے تو دوسری جانب حماس نے اپنے زیر اثر علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ کے اتحادیوں میں بھی تشویش بڑھ سکتی ہے، جنہیں اس مشن میں شمولیت اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ تاہم ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور خطے میں وسیع تر جنگ کے باعث یہ منصوبہ متاثر ہوا۔
ذرائع کے مطابق اس مرکز کی بندش کے بعد اس کی ذمہ داریاں امریکی کمان کے تحت ایک بین الاقوامی سکیورٹی مشن کو منتقل کی جائیں گی، جسے غزہ میں تعینات کیا جانا ہے۔ ایک سفارت کار کے مطابق اس تبدیلی کے بعد وہاں تعینات امریکی اہلکاروں کی تعداد تقریباً 190 سے کم ہو کر 40 رہ جائے گی۔
دوسری جانب اس منصوبے سے منسلک ایک اہلکار نے اس مرکز کے مستقبل پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنانے اور رسائی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔






