عالمی اقتصادی فورم میں خبررساں ادارے رائٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نیٹو کا کہنا تھا کہ ہم نیٹو کے سینئر کمانڈرز کے ساتھ مل کر یہ طے کریں گے کہ اضافی سیکیورٹی کے لیے کیا ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم یہ کام جلد کر سکتے ہیں، امید ہے کہ 2026 تک، بلکہ سال کے آغاز میں ہی ممکن ہو جائے گا۔

ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضے کے ارادے نے نیٹو کے اتحاد کو شدید خطرے میں ڈال دیا اور یورپ کے ساتھ تجارتی کشیدگی پیدا کر دی تھی۔

بدھ کو امریکی صدر نے 10 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی واپس لے لی اور زور زبردستی کے استعمال سے انکار کر دیا، ساتھ ہی انہوں نے رٹے کے ساتھ ایک فریم ورک ڈیل پر اتفاق کیا جس میں گرین لینڈ اور آرکٹک خطے کے مستقبل کے معاہدے کی راہ ہموار کی گئی۔

ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے مزید مذاکرات جاری ہیں، جن میں گولڈن ڈوم میزائل دفاعی پروگرام، ایک 175 ارب ڈالر کا نظام، بھی زیر بحث ہے، لیکن اس معاملے پر تفصیلات محدود ہیں۔

رٹے نے کہا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ غیر آرکٹک نیٹو اتحادی بھی اس کوشش میں اپنا حصہ ڈالیں گے اور آرکٹک میں سیکیورٹی بڑھانے سے یوکرین کی حمایت متاثر نہیں ہوگی۔معدنیات کی استحصال پر ملاقات میں بات نہیں ہوئی اور اس موضوع پر امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن نے کہا کہ سیکیورٹی، سرمایہ کاری اور اقتصادی امور پر بات ہو سکتی ہے، لیکن ہماری خودمختاری پر کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ آرکٹک سیکیورٹی نیٹو سب کے لیے اہم ہے اور ٹرمپ اور رٹے کے درمیان اس پر بات کرنا "قدرتی اور مناسب" ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ خود اپنے معاملات پر فیصلے کر سکتے ہیں اور امریکا کے ساتھ تعاون اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ڈنمارک کی سرحدی سالمیت کا احترام کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: گرین لینڈ تنازع اور ٹیرف دھمکیاں، یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا

رٹے نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ گرین لینڈ کا معاملہ فریم ورک ڈیل میں زیر بحث نہیں آیا اور ان کی توجہ اس بات پر ہے کہ آرکٹک خطے کی حفاظت کیسے کی جائے، جہاں چین اور روس کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔

نیٹو کے ترجمان ایلیسن ہارٹ نے کہا کہ رٹے نے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان مذاکرات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جاری رہیں گے کہ روس اور چین کبھی گرین لینڈ میں اقتصادی یا فوجی طور پر جگہ نہ بنا سکیں۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرز نے ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کو نیٹو کو ترک کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے اور آرکٹک میں سیکیورٹی بڑھانا "مشترکہ ٹرانس اٹلانٹک مفاد" ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ڈنمارک، گرین لینڈ اور شمال کو روس کے خطرے سے بچائیں گے اور ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کے اصولوں، یعنی خودمختاری اور سرحدی سالمیت، کا تحفظ کریں گے۔

واضح رہے کہ یورپی رہنما جمعرات کو ہنگامی اجلاس میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں، جب کہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر متوقع امریکی فیصلے یورپی حکومتوں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں اور وہ محتاط ہیں کہ مستقبل میں دوبارہ ایسے فیصلے نہ ہوں جو عالمی معیشت اور سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔