امریکی میڈیا کے مطابق یہ تجربہ بدھ کی صبح کیا گیا، جس میں کیلیفورنیا کے وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے میزائل فائر کیا گیا۔

امریکی ائیر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کے مطابق، تجربہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔

حکام نے بتایا کہ منٹ مین تھری نے تقریباً 4,200 میل کا فاصلہ طے کیا اور مارشل جزائر میں واقع رونالڈ ریگن بیلسٹک میزائل ڈیفنس ٹیسٹ سائٹ پر کامیابی سے نشانہ حاصل کیا۔

یہ تجربہ، جسے GT 254 کا نام دیا گیا، امریکا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام کی درستگی اور کارکردگی جانچنے کے لیے کیے جانے والے معمول کے سلسلے کا حصہ تھا۔

میزائل غیر مسلح تھا اور اس میں ٹیسٹ ری انٹری وہیکل نصب کیا گیا تھا تاکہ پرواز کے دوران ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، منٹ مین تھری میزائل امریکا کے جوہری دفاعی نظام کا اہم ترین جزو ہے، جو صرف اس صورت میں استعمال کیا جائے گا جب امریکا پر کسی دشمن ملک کی جانب سے جوہری حملہ ہو۔

اگرچہ یہ تجربہ کئی ماہ پہلے سے طے شدہ تھا، لیکن اس نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کرلی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے امریکی فوج کو تین دہائیوں بعد جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے محکمہ جنگ کو ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ کا حکم دے دیا ہے اور یہ عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔