امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایرانی حکومت کے مخالف ایک نمایاں رہنما اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اعلیٰ سطح پر براہِ راست رابطہ ہوا ہے۔ ملاقات کو غیر اعلانیہ رکھا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گفتگو کا محور ایران میں جاری احتجاجی تحریک، عوامی بے چینی اور مستقبل کے ممکنہ سیاسی منظرنامے رہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ رضا پہلوی سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا تھا کہ رضا پہلوی ایک اچھے انسان دکھائی دیتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں ایسی ملاقات مناسب نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود اب ان کے نمائندہ خصوصی کی خفیہ ملاقات نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کے خلاف فوجی مداخلت کا جواز تلاش کر رہا ہے، اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کا الزام

یاد رہے کہ ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے حالیہ دنوں میں ایران میں مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ احتجاج کو مزید منظم اور مؤثر بنائیں اور سڑکوں پر نکل کر اپنا حق مانگیں۔

رضا پہلوی کو پیدائش کے بعد ہی شاہ ایران کے جانشین کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے وقت وہ امریکا میں لڑاکا طیارے اُڑانے کی تربیت حاصل کر رہے تھے، جب ان کے والد محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور شاہی نظام کا خاتمہ ہو گیا۔

دوسری جانب ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ اب رک چکا ہے اور ملک میں حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق انٹرنیٹ اور بین الاقوامی کالز کی بحالی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مظاہروں کے دوران ہزاروں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور رضا پہلوی کی ملاقات اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ امریکا ایران کی اندرونی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔