عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ مقدمہ سان فرانسسکو کی ایک وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا، جو ٹرمپ کے اس اعلان کو قانونی طور پر پہلی بار چیلنج کرتا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایچ-ون بی ویزا کے نئے درخواست دہندگان کو امریکا میں داخل ہونے کے لیے اضافی ایک لاکھ ڈالر فیس ادا کرنا ہو گی۔

رپورٹ کے مطابق اس اتحاد میں یونیائیٹڈ آٹو ورکرز یونین، یونیورسٹی پروفیسروں ایسوسی ایشن، نرسنگ ریکروٹمنٹ ایجنسی اور متعدد مذہبی ادارے شامل ہیں۔

جن کا مؤقف ہے کہ صدر کو امیگریشن سے متعلق کچھ اختیارات حاصل ضرور ہیں، لیکن وہ کانگریس کے وضع کردہ قوانین خاص طور پر ایچ-ون بی ویزا پروگرام کو یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی وہ اکیلے کسی نئی فیس یا محصول کا نفاذ کر سکتے ہیں۔

امریکا کے وفاقی قانون کے مطابق فیس یا محصولات لگانے کا اختیار صرف امریکی کانگریس کو حاصل ہے۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ حکم آئینی حدود سے تجاوز کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اس حکم سے پہلے ایچ ون بی ویزا کی فیس دو ہزار سے پانچ ہزار امریکی ڈالرز تھی لیکن امریکی صدر کی امیگریشن پالیسی کے بعد اس کی فیس ایک لاکھ ڈالرز کر دی گئی تھی جسے 21 ستمبر سے نئے ویزا دہندگان پر لاگو کیا گیا۔ جب کہ موجودہ ویزا ہولڈرز یا پہلے سے دی گئی درخواستیں اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔

یاد رہے کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ویزے مخصوص شعبوں میں مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو دئیے جاتے ہیں، جب کہ اضافی 20 ہزار ویزے اُن افراد کے لیے ہوتے ہیں جن کے پاس امریکی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم کی ڈگری ہو۔

گزشتہ سال کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ان ویزوں کا سب سے ہولڈر انڈیا تھا، جو 71 فیصد ویزے حاصل کرتا آیا ہے، جب کہ چین دوسرے نمبر پر رہا جس کا حصہ 12 فیصد تھا۔