اس بیان کے بعد دنیا بھر میں سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ  پک ایکس ماؤنٹین  ہے کیا، اسے اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے اور اگر اس پر حملہ ہوا تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پک ایکس ماؤنٹین کیا ہے؟

پک ایکس ماؤنٹین ایران کے دارالحکومت تہران سے جنوب میں نطنز کے قریب واقع ایک انتہائی خفیہ اور زیرِ زمین جوہری تنصیب ہے۔

مغربی انٹیلی جنس اداروں کے مطابق یہ کمپلیکس ایک پہاڑ کے اندر سینکڑوں میٹر گہرائی میں تعمیر کیا گیا ہے، جہاں دو بڑے سرنگی نظام موجود ہیں۔ اس کی مضبوطی اتنی زیادہ بتائی جاتی ہے کہ عام بنکر شکن بم بھی اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

امریکا کو اس پر کیوں تشویش ہے؟

امریکی اور مغربی انٹیلی جنس اداروں کا دعویٰ ہے کہ ایران اس مقام پر ممکنہ طور پر ایک خفیہ یورینیم افزودگی کی تنصیب تیار کر رہا ہے، جو مستقبل میں اس کے جوہری پروگرام کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس مقام پر صرف جدید سینٹری فیوجز کی تیاری اور اسمبلنگ کا کام کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا نہیں۔

ٹرمپ نے کیا دھمکی دی؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ ہم پک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کریں گے، ایرانی تیار رہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اس مقام پر ہونے والی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایران نے جوہری سرگرمیاں جاری رکھیں تو اس مرکز کو جلد نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

کیا امریکا واقعی اسے تباہ کر سکتا ہے؟

دفاعی ماہرین کے مطابق یہی سب سے بڑا سوال ہے۔ چونکہ یہ کمپلیکس سخت گرینائٹ چٹانوں کے اندر انتہائی گہرائی میں بنایا گیا ہے، اس لیے کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حتیٰ کہ امریکا کے طاقتور جی بی یو-57 میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر جیسے بنکر شکن ہتھیار بھی اسے مکمل طور پر تباہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایران کی محفوظ ترین جوہری تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔

حالیہ امریکی حملے کہاں ہوئے؟

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف فوجی اہداف پر متعدد فضائی حملے کیے گئے، جن میں ساحلی دفاعی نظام، میزائل لانچر، ڈرون بیسز اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا نے بندر عباس، قشم، کیش، ابو موسیٰ اور دیگر جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی تصدیق کی، جب کہ بعض مقامات پر زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ایران کا ردعمل کیا ہے؟

ایران نے امریکی حملوں کو خطے میں عدم استحکام کی وجہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو مزید جوابی کارروائیاں کی جائیں گی، آبنائے ہرمز ایران کی قومی سلامتی کا حصہ ہے اور وہ اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اگر امریکا واقعی پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست تصادم کو مزید شدت دے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور بین الاقوامی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ فوجی دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم موجودہ صورتحال میں سفارت کاری اور جنگ دونوں امکانات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں