ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ پاور پلانٹ اور پلوں کا دن ایران کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، جب کہ یہ ان کی جانب سے مارچ کے بعد دی جانے والی متعدد ڈیڈ لائنز میں سے ایک ہے، جنہیں وہ ماضی میں مؤخر بھی کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں پاکستان، ترکی اور مصر ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی ممکنہ جنگ بندی یا کم از کم عارضی وقفے کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق 45 روزہ جنگ بندی کی ایک تجویز زیر غور ہے، جس کے تحت فریقین کو مذاکرات کے لیے وقت مل سکے گا، تاہم پاکستانی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کسی بھی مخصوص منصوبے کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک اور تجویز مختصر مدت کی جنگ بندی کی بھی ہے، جس کا مقصد اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے بڑے معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس دوران ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دھمکیوں اور الٹی میٹم کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کو جنگ بندی کا ’اسلام آباد معاہدہ‘ موصول
خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں تیل کی تنصیبات، جامعات اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جسے بعض ماہرین بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ اپنے اعلان پر عمل کرتے ہیں تو یہ کشیدگی کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتا ہے، تاہم جاری سفارتی کوششیں اب بھی کسی ممکنہ بریک تھرو کی امید پیدا کر رہی ہیں۔







