امریکا میں آج انتخابات کا دن ہے۔ نیویارک، ورجینیا اور نیو جرسی میں پولنگ مراکز کھل چکے ہیں جب کہ کیلیفورنیا میں پولنگ سینٹرز کچھ دیر بعد کھلیں گے۔

ظہران ممدانی، جو نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں، نیویارک سٹی کے میئر کے عہدے کی دوڑ میں آگے ہیں۔

 انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے زندگی آسان اور اخراجات کم کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیویارک عام لوگوں کے لیے ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ہو چکا ہے۔

سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ظہران ممدانی نے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہماری مہم سے خطرہ ہے۔ انہوں نے عوام کو دھمکیاں دی ہیں کیونکہ ہم نے وہ مسائل اجاگر کیے جن کاسامنا عام محنت کش نیویارکرز کر رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہم ان مسائل پر صرف بات نہیں کریں گے، بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔

انہوں نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری فنڈز کو عوامی فلاح کے بجائے اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہے ہیں۔جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے بال روم کی تزئین و آرائش پر 300 ملین ڈالرز خرچ کر سکتے ہیں، تو اتنی ہی رقم نیویارک کے ایک لاکھ شہریوں کو فوڈ اسٹیمپ  کے ذریعے کھانے کی سہولت فراہم کر سکتی ہے۔

انتخابات کے آخری مراحل میں داخل ہونے پر، نیویارک میں انتخابی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ عوام منگل کے روز ووٹنگ کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں گے۔

اسی دوران ٹرمپ نے ممدانی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جیت گئے تو نیویارک مکمل معاشی اور سماجی تباہی کی طرف چلا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ وہ ممدانی کے اقتدار میں آنے کی صورت میں شہر کو ضروری وفاقی فنڈز دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے نیویارک کے سابق گورنر اینڈریو کوومو کی باضابطہ حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اگر کمیونسٹ ظہران ممدانی جیت گئے تو نیویارک کا بچنا ناممکن ہو جائے گا۔ میں ایسے شہر پر پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتا جہاں کمیونزم کا راج ہو۔

انہوں نے مزید کہاکہ کمیونسٹ نظریات صدیوں سے آزمائے جا رہے ہیں اور ہمیشہ ناکام ہوئے ہیں۔ ممدانی کے پاس کوئی عملی تجربہ نہیں اور بطور اسمبلی ممبر وہ بیکار ثابت ہوئے۔

ادھر ظہران ممدانی نے ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ عوام کی بنیادی ضروریات پر سیاست کر رہے ہیں۔ نیویارک کا فنڈ نیویارک والوں کا ہے، یہ ٹرمپ کا ذاتی فیصلہ نہیں کہ کون سی ریاست کو کتنا حصہ ملے۔ ہم اپنے شہریوں کا حق لے کر رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور کوومو دونوں ایک ہی طبقے کے مفادات کے محافظ ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ کوومو کو انہی ارب پتیوں نے فنڈ کیا جنہوں نے ٹرمپ کو اقتدار میں لانے میں مدد دی۔ اب ٹرمپ کھل کر کوومو کی حمایت کر رہے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نیویارک کے نہیں بلکہ اپنے طبقے کے مفاد کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ظہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے عوام واشنگٹن کے اس ایجنڈے سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ وہی پالیسیاں سٹی ہال میں دہرائی جائیں۔

ممدانی 34 سال کے ہیں، ان کا تعلق ایک بھارتی انڈین ادبی اور فکری گھرانے سے ہے۔ وہ مشہور انڈین فلم ساز میرا نائر کے بیٹے اور ممتاز مصنف و محقق محمود ممدانی کے صاحبزادے ہیں۔

انہوں نے اس سال جون میں ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کوومو کو شکست دی تھی۔ نیویارک الیکشن بورڈ کے مطابق، 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد ووٹرز نے قبل از وقت ووٹ ڈالے، جو 2021 کے انتخابات کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

نیو یارک کے موجودہ میئر ایرک ایڈمز کرپشن اسکینڈلز کے باعث پہلے ہی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں۔

ممدانی نے وعدہ کیا ہے کہ بطور میئر، وہ فوری طور پر تمام مستقل کرایہ داروں کا کرایہ منجمد کر دیں گے اور ہر دستیاب نیویارک کے لیے بغیر کرائے کے مکانات تعمیر کریں گے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر براک اوباما نے ہفتے کے روز ممدانی کو فون کیا اور کہا کہ ان کی مہم قابل ذکر رہی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، اوباما نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں تو وہ ممدانی کے ساؤنڈنگ بورڈ ہوں گے۔