صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں پوپ لیو کو جرائم کے معاملے پر "کمزور" اور خارجہ پالیسی کے لیے "ناموزوں" قرار دیا۔ بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں بھی انہوں نے کہا کہ وہ پوپ کے خیالات سے متفق نہیں اور ان کے بڑے مداح بھی نہیں ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوپ لیو شانزدہم نے حالیہ دنوں میں امریکی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی تھی، خصوصاً ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امیگریشن سے متعلق اقدامات پر۔ پوپ نے ایران میں جاری تنازع کو "انتہائی خطرناک" قرار دیتے ہوئے عالمی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی اور امن کی جانب پیش رفت کریں۔
پوپ لیو نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ جنگوں کو ہوا دینے والے رہنماؤں کے دعوے اور دعائیں اخلاقی جواز نہیں رکھتیں۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر امریکی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
امیگریشن کے معاملے پر بھی پوپ نے سخت مؤقف اپنایا اور کہا کہ مہاجرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہ صرف عالمی قوانین بلکہ مذہبی تعلیمات کے بھی منافی ہے،کمزور اور بے سہارا افراد کے حقوق کا تحفظ ہر ریاست کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے پوپ لیو کو "آزاد خیال سوچ رکھنے والا" قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ جرائم اور سیکیورٹی جیسے اہم معاملات پر واضح اور مؤثر مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں،امریکہ کی پالیسیاں قومی مفاد کے تحت بنائی جاتی ہیں اور ان پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ اور ویٹیکن کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل بھی پوپ فرانسس کے دور میں دونوں کے تعلقات کشیدہ رہے تھے، خصوصاً امیگریشن اور انسانی حقوق کے معاملات پر۔
موجودہ صورتحال میں ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بیان بازی سے نہ صرف سفارتی ماحول متاثر ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر مذہبی اور سیاسی قیادت کے درمیان فاصلے بھی بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم کچھ حلقے اسے محض سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ عملی سطح پر دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ کام جاری رکھنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئے گا، ٹرمپ کو امید
واضح رہے کہ ویٹیکن کی جانب سے تاحال صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔







