عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ مراکز اب صرف ٹیکنالوجی معاونت تک محدود نہیں رہے بلکہ مالیاتی خدمات، تحقیق، مصنوعی ذہانت اور پروڈکٹ کی تیاری جیسے شعبوں میں بھی سرگرم ہیں۔

انڈیا اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ یعنی 17 سو سے زائد جی سی سی ایس کا میزبان ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک ان مراکز کی تعداد 22 سو سے تجاوز کر جائے گی جس سے یہ شعبہ سو ارب ڈالر کی مارکیٹ بن سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ویزا پالیسیوں میں سختی، فیسوں میں اضافے اور امریکی قوانین میں ممکنہ مزید پابندیوں کے باعث کمپنیاں انڈیا کے علاوہ میکسیکو اور کینیڈا جیسے ممالک کا رخ کر رہی ہیں۔

انڈیا میں قائم یہ مراکز امریکی کمپنیوں کو جدت اور اسٹریٹجک کام کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ کچھ کمپنیاں ممکنہ 25 فیصد ٹیکس کی وجہ سے احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہیں تاہم مجموعی رجحان یہی ہے کہ انڈین مارکیٹ کو مستقبل میں مزید وسعت ملے گی۔

Image
اگرچہ کچھ کمپنیاں ممکنہ 25 فیصد ٹیکس کی وجہ سے احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ (تصویر: دی ہندو)

واضع رہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی سخت ویزا پالیسیوں کا براہ راست فائدہ انڈیا کے آئی ٹی اور خدماتی شعبے کو ہو رہا ہے جہاں تربیت یافتہ افرادی قوت اور جدید سہولیات کے باعث عالمی کمپنیاں اپنے دفاتر قائم کرنے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔

اس بارے میں اگرچہ امریکی حکومت کا کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم انڈیا کی وزارت آئی ٹی کا کہنا ہے کہ عالمی کمپنیوں کی دلچسپی انڈیا کی ساکھ اور صلاحیت کا ثبوت ہے۔

حکام کے مطابق حکومت مقامی مہارت کو مزید بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گی۔