عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ آئین میں موجود دو مدتوں کی حد کو عدالت میں چیلنج کریں گے یا نہیں۔ اس بیان نے واشنگٹن میں آئینی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کے مطابق کوئی بھی شخص صدر کے عہدے کے لیے دو مرتبہ سے زیادہ منتخب نہیں ہو سکتا۔ یہ ترمیم 1951 میں اس وقت منظور کی گئی تھی جب صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے دو سے زیادہ مدتوں کے لیے اقتدار سنبھالا تھا۔ قانون کے ماہرین کے مطابق اس شق میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں اور سپریم کورٹ ایسی کسی کوشش کو فوری طور پر مسترد کر دے گی۔

ٹرمپ کے حامیوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا ان کے اتحادی آئین میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ نظریاتی طور پر ممکن ہے مگر موجودہ سیاسی تقسیم کے ماحول میں عملی طور پر یہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ آئینی ترمیم کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور پھر 50 میں سے 38 ریاستوں کی منظوری لازمی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اینڈی اوگلز نے رواں سال ایک بل پیش کیا جس میں صدر کو تین غیر مسلسل مدتوں کے لیے اہل قرار دینے کی تجویز دی گئی۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو ٹرمپ 2029 میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑ سکتے ہیں۔

مزید براں ایک اور سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ٹرمپ بطور نائب صدر اقتدار میں واپس آ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ قانوناً شاید ممکن ہو مگر عوام کو یہ پسند نہیں آئے گا۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ 12ویں ترمیم کے مطابق جو شخص صدر بننے کا اہل نہیں وہ نائب صدر بھی نہیں بن سکتا۔

واضع رہے کہ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے بیانات ان کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہیں جن سے وہ اپنے حامیوں کو متحرک رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر آئینی ماہرین کے نزدیک امریکی آئین کی دو مدتوں کی شرط اتنی مضبوط ہے کہ اس میں تبدیلی یا عدالتی توجیہ تقریباً ناممکن ہے۔