اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی کہا ہے کہ ایران کسی دباؤ یا طاقت کے تحت بات چیت نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق کوئی بھی باوقار ملک دھمکی کے ماحول میں مذاکرات نہیں کرتا اور یہ اصولی مؤقف ہے۔
ادھر اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہو سکی اور ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان پہنچنے کا امکان ہے، جہاں ایک ممکنہ پیش رفت کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق اگر مذاکرات میں کچھ پیش رفت دکھائی دیتی ہے تو ڈیڈلائن میں توسیع بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر امن اور سلامتی کے لیے اہم ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ممکنہ نیا معاہدہ 2015 کے جوہری معاہدے سے بہتر ہوگا، جسے جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران سے یورینیم کا حصول ایک مشکل اور طویل عمل ہوگا، خاص طور پر ان حملوں کے بعد جن میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ طویل عرصے سے ایران پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کے ذریعے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔







