صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک امن کے لیے تیار ہیں اور امریکا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ادھر تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے امریکی صدر سے گفتگو کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تازہ جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور سیزفائر کی بحالی پر زور دیا ہے۔

تھائی وزیراعظم کے مطابق انہوں نے صدر ٹرمپ کو واضح کیا کہ تھائی لینڈ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور امریکی صدر سے کہا کہ کمبوڈیا پر دباؤ ڈالیں کہ وہ دشمنی روک دے۔ انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا کے ساتھ ابھی تک کوئی باضابطہ جنگ بندی طے نہیں ہوئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ معاہدے کی معطلی ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو تھائی فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد سامنے آئی تھی۔

یہ امن معاہدہ دراصل ان سرحدی جھڑپوں کے بعد طے پایا تھا جو جولائی میں پیش آئی تھیں، جن میں 40 سے زائد افراد ہلاک اور تین لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہوئے تھے۔

دونوں ممالک نے یہ معاہدہ اکتوبر میں ملائیشیا میں امریکی صدر کی موجودگی میں ہونے والی ایک تقریب میں کیا تھا، تاہم تھائی لینڈ نے بعد ازاں اسے باضابطہ امن معاہدہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔