وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری صدارتی حکم نامے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ HieFo ایک ایسے شخص کے کنٹرول میں ہے جو عوامی جمہوریہ چین کا شہری ہے اور 2024 میں Emcore کے کاروبار کی خریداری کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کمپنی ایسے اقدامات کر سکتی ہے جو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنیں۔
حکم نامے میں کسی فرد کا نام یا خدشات کی تفصیل بیان نہیں کی گئی، تاہم صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ
یہ لین دین ممنوع قرار دیا جاتا ہے اور HieFo کو ہدایت کی کہ وہ 180 دن کے اندر Emcore کے تمام اثاثوں میں اپنے تمام حقوق اور مفادات ختم کرے، چاہے وہ کہیں بھی موجود ہوں۔
عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے صدر کے حکم کے بعد بتایا کہ کمیٹی آن فارن انویسٹمنٹ ان دی یونائیٹڈ اسٹیٹس (CFIUS) نے اس معاہدے کی تحقیقات کے دوران قومی سلامتی کے خطرات کی نشاندہی کی تھی، تاہم ان خطرات کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی گئی۔
خبر کے اجرا تک HieFo اور Emcore کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور دونوں کمپنیوں کی ویب سائٹس پر بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
Emcore، جو معاہدے کے وقت پبلک لمیٹڈ کمپنی تھی اور بعد ازاں نجی ملکیت میں چلی گئی، کے مطابق HieFo نے اس کا چِپس بزنس اور انڈیم فاسفائیڈ ویفر فیبری کیشن آپریشنز تقریباً 29 لاکھ 20 ہزار ڈالر میں خریدے تھے۔
HieFo نے اس وقت بتایا تھا کہ کمپنی کی مشترکہ بنیاد گینزاؤ ژانگ نے رکھی، جو Emcore میں انجینئرنگ کے سابق نائب صدر رہ چکے ہیں، جب کہ دوسرے شریک بانی ہیری مور ہیں، جن کا لنکڈ اِن پروفائل Emcore میں سابق سینئر سیلز ڈائریکٹر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ اقدام ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی حکومت چین سے منسلک سرمایہ کاری، خصوصاً دفاع اور حساس ٹیکنالوجی کے شعبوں میں، سخت نگرانی اور پابندیوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔






