وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق اس معاہدے سے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ امریکا اور سعودی عرب نے مختلف اہم شعبوں میں تعاون کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتیں بھی طے کی ہیں، جن میں سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا تاریخی معاہدہ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں تاریخی ایم او یو شامل ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ ولی عہد کے دورہ واشنگٹن کے دوران سعودی عرب کی امریکا میں سرمایہ کاری کو سابقہ 600 ارب ڈالر سے بڑھا کر 1 کھرب ڈالر تک توسیع دینے پر بات کی جائے گی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدے خطے کی سلامتی، دفاعی استعداد اور اقتصادی تعاون کو نئی سمت فراہم کریں گے۔







