اہلکار کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ہمیں جو بائیڈن کی طرح نہیں سمجھ سکتے جن کے دورِ صدارت میں نیتن یاہو نے متعدد بار اختلافات پیدا کیے اور سیاسی فائدے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کیا۔
دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے جو بائیڈن کے دور میں بارہا اختلافات کو ہوا دی اور بعض اوقات سیاسی مقاصد کے لیے واشنگٹن سے تعلقات میں کشیدگی بڑھائی۔
یہ تبصرہ 2010 کے اُس واقعے کی یاد بھی تازہ کرتا ہے جب اوباما انتظامیہ کے دور میں اُس وقت کے نائب صدر جو بائیڈن کے اسرائیل میں قیام کے دوران مشرقی بیت المقدس میں 1600 یہودی رہائشی یونٹس کی تعمیر کا اعلان کیا گیا، جس سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔
گزشتہ روز واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں اسٹیٹ ڈائننگ روم میں امریکی حکام نے نیتن یاہو حکومت پر سخت تنقید کی۔ اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے معاملے میں کوئی قدم نہیں اٹھا رہا، اس کی فکر مت کرو۔
یہ ردِعمل اُس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے نائب صدر جے ڈی وینس کے اسرائیل کے دورے کے دوران مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے سے متعلق دو بلوں کی منظوری دی۔
یہ قراردادیں نیتن یاہو کی مخالفت کے باوجود منظور ہوئیں، حالانکہ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ وہ اسرائیل کو اس متنازع اقدام کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایک اور امریکی اہلکار نے اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں کہا کہ اگر نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو خطرے میں ڈالا تو ٹرمپ انہیں سخت سبق سکھائیں گے۔
نیتن یاہو صدر ٹرمپ کے ساتھ نازک لکیر پر چل رہے ہیں، اگر وہ مغربی کنارے کے انضمام پر اصرار کرتے رہے تو غزہ کا معاہدہ تباہ ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو ٹرمپ خود انہیں نقصان پہنچائیں گے۔
چینل 12 کی معروف میزبان یُونِت لیوی نے رپورٹ کے اختتام پر کہا کہ انگریزی میں یہ الفاظ اور بھی زیادہ سخت محسوس ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، نائب صدر جے ڈی وینس، جو اس وقت اسرائیل میں موجود تھے، اس فیصلے سے حیران رہ گئے اور کہا کہ اسرائیل بغیر مشاورت کے فیصلے کر رہا ہے۔
نیتن یاہو نے جے ڈی وینس کو کنیسٹ کے ووٹ سے آگاہ کرتے ہوئے وضاحت دی کہ یہ صرف ایک ابتدائی ووٹ ہے اور عملی طور پر اس کا کوئی فوری اثر نہیں ہوگا۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ کے مطابق، وینس نے جواب دیایہ اس وقت نہیں ہو سکتا جب میں یہاں موجود ہوں۔
امریکی حکام نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ یہ ووٹ واشنگٹن کے ردِعمل کو بھڑکا سکتا ہے اور غزہ جنگ بندی سے متعلق جاری مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
روانگی سے قبل ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ یہ بل محض سیاسی نمائش اور علامتی اقدام ہے، تاہم ان کے بقول اگر واقعی ایسا ہے تو یہ ایک انتہائی بے وقوفانہ سیاسی فیصلہ ہے اور میں نے ذاتی طور پر اس پر شدید ناگواری محسوس کی ہے۔






