امریکی صدر واشنگٹن سے خصوصی طیارے کے ذریعے انقرہ پہنچے، جہاں ترک حکام نے ان کا استقبال کیا۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں دفاعی تعاون، تجارت اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق نیٹو سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ ایک مرتبہ پھر اتحادی ممالک پر دفاعی اخراجات میں اضافے کے لیے زور دیں گے۔ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک کو اجتماعی دفاع کے لیے اپنی مالی ذمہ داریاں مزید بڑھانی چاہئیں، جبکہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اتحادی ممالک نے حالیہ برسوں میں دفاعی اخراجات میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔اجلاس کے موقع پر امریکا اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون بھی اہم موضوع ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات کا اشارہ دے سکتے ہیں کہ واشنگٹن ترکی کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جائے گی، کیونکہ ترکی کو ماضی میں روسی ایس-400 دفاعی نظام کی خریداری کے باعث ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو اجلاس میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی بھی اہم ایجنڈے میں شامل ہوگی۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے حوالے سے نیٹو رہنما مشترکہ حکمت عملی پر غور کریں گے۔
ادھر یوکرین کی صورتحال بھی اجلاس کا مرکزی موضوع ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات متوقع ہے، جس میں روس یوکرین جنگ، جنگ بندی کی ممکنہ کوششوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس اس سال غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف یورپ کی دفاعی حکمت عملی بلکہ مشرقِ وسطیٰ، بحیرہ اسود، آبنائے ہرمز اور عالمی سلامتی سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور ممکنہ معاہدوں پر عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں کی گہری نظر ہے۔







