امریکی میڈیا کے مطابق سوزی وائلز نے ایک معروف امریکی میگزین کو دیے گئے سلسلہ وار انٹرویوز میں ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربات پر کھل کر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ شراب نوشی سے پرہیز کے لیے مشہور ہیں، لیکن ان کی شخصیت کئی حوالوں سے شرابیوں جیسی محسوس ہوتی ہے۔
سوزی وائلز کا کہنا تھا کہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ ٹرمپ شراب نہیں پیتے، تاہم ان کا رویہ، مزاج اور فیصلوں کا انداز ایسے لوگوں جیسا ہے جو نشے کے عادی ہوتے ہیں۔
WASHINGTON - Donald Trump s chief of staff Susie Wiles said the US president had an "alcoholic s personality" in an astonishing interview published Tuesday by Vanity Fair, which Wiles swiftly dismissed as a "hit piece."
— The New Vision (@newvisionwire) December 17, 2025
DETAILS👉 https://t.co/DBAnelZ3ST#VisionUpdates pic.twitter.com/SPzms2Ysms
انٹرویوز کے دوران سوزی وائلز نے صدر ٹرمپ کی انتقامی سوچ کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ ان کے دوسرے دور کے کئی اقدامات بدلہ لینے کے جذبے سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں سمجھتیں کہ ٹرمپ روزانہ صبح اٹھ کر انتقام لینے کے بارے میں سوچتے ہیں، تاہم جب انہیں موقع ملتا ہے تو وہ اس سمت میں ضرور قدم اٹھاتے ہیں۔
سوزی وائلز کے مطابق ٹرمپ اس یقین کے ساتھ حکومت کرتے ہیں کہ دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں جسے وہ انجام نہ دے سکیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ صدر کا یہی رویہ بعض اوقات خطرناک فیصلوں کی طرف بھی لے جاتا ہے۔
چیف آف اسٹاف نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ٹرمپ وینزویلا میں کشتیوں پر بم حملوں کی ایک مہم کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کے خواہاں تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعض انتہائی متنازع معاملات پر ٹرمپ نے ان کے مشورے کو نظرانداز کیا، جن میں ملک بدری کے فیصلے اور صدارتی معافیاں شامل تھیں۔
انٹرویوز میں سوزی وائلز نے ٹرمپ کی ٹیم کے دیگر اہم افراد پر بھی سخت تبصرے کیے۔ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کو سازشی نظریات رکھنے والا شخص قرار دیا، جب کہ ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک کو بک بک کرنے والی بطخ سے تشبیہ دی۔
Donald Trump Has the Personality of an Alcoholic, White House Staffer Admits in Odd Compliment: He Thinks There’s Nothing He Can’t Do https://t.co/plOPnzrZ3a
— OK! Magazine USA (@OKMagazine) December 17, 2025
دوسری جانب ان انٹرویوز پر ردعمل دیتے ہوئے سوزی وائلز کا کہنا ہے کہ میڈیا نے ان کے بعض بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اور غلط انداز میں پیش کیا ہے، جس سے ان کے مؤقف کو توڑ مروڑ کر دکھایا گیا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر سوزی وائلز کا دفاع کیا اور ان کے کام اور صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ ماضی میں سوزی وائلز کو وائٹ ہاؤس کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار کر چکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ محض ایک فون کال کے ذریعے عالمی معاملات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایک علیحدہ بیان میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس سوزی وائلز سے زیادہ وفادار یا مؤثر مشیر کوئی نہیں اور پوری انتظامیہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔






