مسعود پزشکیان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بارہاکہہ چکے ہیں ایران حملوں میں پہل نہیں کرتا، لیکن اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی صدر کا کہنا ہے خطے کے ممالک ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو اپنی سرزمین ایران کے دشمنوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
We have said many times that Iran doesn't carry out preemptive attacks, but we will retaliate strongly if our infrastructure or economic centers are targeted.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 28, 2026
To the countries of the region:
If you want development and security, don't let our enemies run the war from your lands.
اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس میں علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں پر بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں، خصوصاً شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت کی اور مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے حالیہ واقعات میں 1900 سے زائد افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش ظاہر کی۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو بتایا کہ پاکستان امریکا، خلیجی اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور امید ہے کہ مشترکہ سفارتی کاوشوں سے کشیدگی میں کمی لانے کا راستہ نکالا جا سکے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسرائیلی اقدامات پر ایران کا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا۔
گفتگو کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔







