روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ کیوبا روس کا قریبی اتحادی ہے اور اسے تنہا چھوڑنا ممکن نہیں۔ انہوں نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا کیوبا پر عائد بلاکڈ ختم کرے۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی آئل ٹینکر  اناتولی کولوڈکن  تقریباً 7 لاکھ 30 ہزار بیرل خام تیل لے کر کیوبا کے اہم بندرگاہ میٹانزاس بے پہنچا، جو تین ماہ میں پہلی بڑی سپلائی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ کھیپ اس وقت پہنچی جب کیوبا شدید توانائی بحران کا شکار ہے، جہاں ایندھن کی کمی کے باعث ملک بھر میں بجلی کی طویل بندشیں ہو رہی ہیں اور صحت، ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے شدید متاثر ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جاری پابندیوں کے باوجود اس ٹینکر کو انسانی بنیادوں پر داخلے کی اجازت دی، تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ مجموعی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

کیوبا کی حکومت نے اس امداد کو ریلیف قرار دیتے ہوئے روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تیل وقتی طور پر بحران میں کمی لا سکتا ہے، مگر طویل المدتی حل کے لیے مزید سپلائیز درکار ہوں گی۔

یاد رہے کہ کیوبا اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے اور حالیہ جیوپولیٹیکل کشیدگی کے باعث سپلائی میں رکاوٹ نے ملک کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔