کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی جس میں بعض تجارتی ٹیرف اقدامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف امریکا کی معیشت کے تحفظ اور قومی مفاد کے دفاع کا مؤثر ہتھیار ہیں۔
JUST IN🇺🇸:
— Global Flash Alert (@GlobalFlashHQ) February 25, 2026
Donald Trump:
“And as time goes by, I believe the tariffs paid for by foreign countries will, like in the past, substantially replace the modern day system of income tax, taking a great financial burden off the people that I love.”#Trump #Tariffs pic.twitter.com/bctTmfdZlq
انہوں نے کہا کہ آج امریکی سرحدیں تاریخ کی محفوظ ترین سرحدیں بن چکی ہیں اور گزشتہ 9 ماہ کے دوران ایک بھی غیر قانونی شخص امریکا میں داخل نہیں ہو سکا، غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے اور امریکا میں غیر قانونی امیگریشن کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو امریکا میں نہیں ہونا چاہیے تھا، اور ایسے واقعات سرحدی پالیسی کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں۔
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دور میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی جبکہ گزشتہ 12 ماہ میں 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے ممکن بنائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا آج پہلے سے زیادہ مستحکم اور خوشحال ہے اور ایک سال میں غیر معمولی تبدیلی لائی گئی ہے۔ انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت معاشی تباہی کے دہانے پر تھا لیکن اب دنیا کا سب سے زیادہ پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔
انہوں نے کانگریس سے ٹیکس میں کٹوتیوں کی منظوری کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ ری پبلکن اراکین نے اس اقدام کی حمایت کی جبکہ ڈیموکریٹس نے مخالفت کی۔
خطاب کے دوران ایوان میں اس وقت ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب رکن کانگریس آل گرین نے احتجاج کیا اور صدر کے سامنے بینر لہرانے کی کوشش کی، جس پر انہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا۔
صدر کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے اراکین اور ٹرمپ کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ خطاب کو آئندہ صدارتی پالیسیوں کے خدوخال واضح کرنے اور سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔







