عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل نے وزیراعظم کے استعفے کے بعد فوری طور پر اہم فیصلہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کر دیا ہے۔ ڈاکٹر الزندانی کو اس وقت شدید سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم سالم صالح بن بریک کا استعفا ملک میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، سیاسی دباؤ اور اندرونی اختلافات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ یمن طویل عرصے سے خانہ جنگی، معاشی بحران اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت کا شکار ہے، جس کے باعث حکومتی ڈھانچہ شدید دباؤ میں ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم، جنوبی عبوری کونسل (STC) نے یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی عبوری کونسل کے جنگجو سعودی عرب کی سرحد کے قریب تک پہنچ گئے تھے، جس پر سعودی عرب نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج مختلف دھڑوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا، سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا اور علاقائی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو متوازن رکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ معاشی بحران، انسانی امداد اور عوامی مسائل بھی نئی حکومت کے فوری ایجنڈے میں شامل ہوں گے۔
یمن میں حکومت کی یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں امن مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق ان کوششوں کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔







