ڈان نیوز کے مطابق یہ جہاز تہران سے تیل لے کر یمن کی طرف جا رہا تھا جب حملہ پیش آیا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ اتنی شدید ہے کہ جہاز مسلسل شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ عملے کو عارضی طور پر نکالنے کے بعد دوبارہ زبردستی جہاز پر بھیج دیا گیا، لیکن ان کے پاس آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں۔
خطرناک صورتحال کے باعث عملے کے افراد نے مقامی ریسکیو اداروں اور حکومتِ پاکستان سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ یمن میں اسرائیل کی جانب سے میزائل حملے معمول بن چکے ہیں۔ اسرائیلی فضائی کارروائیوں کا ہدف عموماً حوثی باغیوں کی ٹھکانے، بندرگاہیں اور تیل کی تنصیبات ہوتے ہیں۔
انصار اللہ تحریک (جسے حوثی باغی کہا جاتا ہے) غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے جواب میں تل ابیب پر میزائل حملے کرتی رہی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں امریکا بھی اسرائیل کے ساتھ مل کر یمن پر بمباری میں شریک رہا، تاہم بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن پر فضائی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔







