عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یو اے ای جیسے دیرینہ رکن کی علیحدگی سے اوپیک کی صفوں میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے اور تنظیم کی مجموعی طاقت کمزور پڑنے کا خدشہ ہے، جب کہ اس کے غیر اعلانیہ قائد سعودی عرب کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ نے عالمی توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

خلیجی ممالک پہلے ہی آبنائے ہرمز کے راستے برآمدات میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور ایل این جی گزرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی علیحدگی اوپیک کے اندر موجود اختلافات کو مزید نمایاں کرے گی، جو پہلے ہی پیداوار کے کوٹہ اور جغرافیائی سیاست جیسے معاملات پر موجود تھے۔

دوسری جانب اس پیش رفت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو ماضی میں اوپیک پر تیل کی قیمتیں بڑھانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا خلیجی ممالک کو سیکیورٹی فراہم کرتا ہے جب کہ وہ اس کے بدلے تیل کی قیمتیں بلند رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یو اے ای نے ایران کے حملوں کے تناظر میں عرب ممالک اور خلیجی اتحاد خلیجی تعاون کونسل کے ردعمل پر بھی تنقید کی ہے۔

یو اے ای کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ خلیجی ممالک نے لاجسٹک سطح پر تعاون تو کیا، لیکن سیاسی اور عسکری سطح پر ان کا ردعمل تاریخ کا کمزور ترین رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کا یہ قدم نہ صرف اوپیک کی یکجہتی کو متاثر کرے گا بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال کو بھی جنم دے سکتا ہے۔