تفصیلات کے مطابق وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے دبئی میں سالانہ یو اے ای انڈسٹریل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کرنے والے شراکت داروں کے شکر گزار ہیں اور دنیا کی ضروریات کے مطابق بغیر کسی پابندی کے پیداوار جاری رکھیں گے، ساتھ ہی دیگر تمام پیدا کنندگان کے ساتھ تعاون بھی برقرار رکھیں گے۔

المزروعی اور سرکاری توانائی گروپ ادنوک کے سی ای او نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس کو خوشگوار تعلقات کے ساتھ چھوڑا ہے اور یہ فیصلہ کسی کے خلاف نہیں تھا۔

میک اٹ ان دی ایمریٹس کانفرنس میں المزروعی نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم اوپیک اور اوپیک پلس کے اراکین سمیت متعدد ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ہم نے خوشگوار ماحول میں علیحدگی اختیار کی ہے۔

 جب ان سے سعودی عرب اور اوپیک کے عوامی ردعمل کی کمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ گروپ اس فیصلے پر خاموش رہا ہے۔ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ ایک خودمختار فیصلہ ہے اور متحدہ عرب امارات ایک ذمہ دار پیدا کنندہ کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات، جو اوپیک کے بڑے پیدا کنندگان میں سے ایک تھا، یکم مئی کو اس گروپ سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ اس اقدام نے اس کے پڑوسی ملک سعودی عرب کے ساتھ اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جو عملی طور پر اوپیک اور وسیع تر اوپیک پلس گروپ کی قیادت کرتا ہے۔

توانائی کے ماہرین متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو تیل کی منڈیوں پر اوپیک کی گرفت کمزور ہونے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پیداوار بڑھانے کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہو سکتی ہے۔

المزروعی نے مزید کہا کہ ہم اپنی سرگرمیوں کا تعین مارکیٹ کی ضروریات اور اپنی مقامی صنعتوں کی بنیاد پر کریں گے۔

ادنوک کے سی ای او سلطان الجابر نے کہا کہ اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ متحدہ عرب امارات کے طویل مدتی اسٹریٹجک مقاصد کے عین مطابق ہے۔ اس سے ملک کو سرمایہ کاری تیز کرنے، کاروبار کو وسعت دینے اور اپنی اہمیت بڑھانے کی زیادہ صلاحیت حاصل ہوگی، جب کہ وہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک قابلِ اعتماد اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر برقرار رہے گا۔

انہوں نے کانفرنس کے دوران کہا کہ عالمی توانائی کے منظرنامے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے اور اوپیک و اوپیک پلس سے باہر نکلنے کا متحدہ عرب امارات کا خودمختار فیصلہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔