زیلنسکی نے یہ اعلان عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کے خدوخال کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، اور جنگ کے بعد ملک کی معاشی بحالی کے حوالے سے معاہدہ بھی تقریباً تیار ہے، جو کیف کی پیش کردہ تجاویز کا مرکزی حصہ ہے۔

ان کے مطابق، یہ مذاکرات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ پہلی بار ہوگا کہ روس، یوکرین اور امریکا کے اعلیٰ حکام ایک ہی میز پر بیٹھیں گے، یہ مثبت پیش رفت ہے، تاہم روس کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی سے ملاقات کو اہم اور “اچھی” قرار دیا، لیکن ساتھ ہی وضاحت کی کہ جنگ کے خاتمے کی کوششیں ایک جاری اور پیچیدہ عمل ہیں۔ اس موقع پر امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ روس اور یوکرین کے درمیان طویل مذاکرات میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور اب صرف چند اہم مسائل باقی رہ گئے ہیں جنہیں حل کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق، اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات چیت کے لیے ماسکو روانہ ہوئے، جس کے بعد وہ ابو ظہبی جائیں گے جہاں فوجی اور اقتصادی سطح کے ورکنگ گروپس کے تحت مزید مذاکرات ہوں گے۔

یوکرین کے صدر نے زور دیا کہ یہ اجلاس نہ صرف موجودہ جنگ کے خاتمے بلکہ ملک کی معاشی بحالی اور مستقبل میں سیکیورٹی کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر امن عمل کے دائرہ کار میں انسانی امداد، شہری تحفظ، اور انفراسٹرکچر کی بحالی جیسے اہم موضوعات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سہ فریقی مذاکرات عالمی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ پہلی بار تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام براہِ راست بات چیت کر رہے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو یہ نہ صرف یوکرین میں فوری جنگ بندی بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور یورپی خطے میں امن کے لیے بھی مثبت پیغام دیں گے۔

زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ یوکرین اور بین الاقوامی برادری اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دے گی، اور امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔