روسی خفیہ ایجنسی ایس وی آر کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ مخالفین بخوبی جانتے ہیں کہ اگر جوہری عنصر کو استعمال کیا گیا تو اس کے کیا نتائج ہوں گ، روسی توانائی تنصیبات پر حملوں کی دھمکیاں دے کر یوکرین امن عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ روس کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں یوکرینی اور بعض مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں ملوث ہیں،روس اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

روسی انٹیلی جنس سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس یوکرین کو جوہری ہتھیاروں سے متعلق پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس دعوے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹیرف سے جنگیں ختم کیں، دنیا امریکا سے ڈیلز کی خواہاں ہے: صدرٹرمپ

روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جوہری طاقتوں کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ماسکو میں فرانس کے سفارت خانے نے روسی انٹیلی جنس کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

یوکرین جنگ کے جاری رہنے کے دوران روس اور مغربی ممالک کے درمیان بیان بازی اور سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔