یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ایک  اہم انتظام  ہے جو مستقبل میں ٹیکنالوجی تعاون، سرمایہ کاری اور دفاعی معاہدوں کی بنیاد رکھے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات سے قبل اس پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دی ہے، تاہم سعودی عرب کی جانب سے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

سعودی عرب، جو حالیہ ہفتوں میں ایرانی ڈرونز اور میزائل حملوں کا سامنا کر رہا ہے، نے متعدد حملوں کو ناکام بنایا ہے، جن میں جمعہ کے روز چھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنا بھی شامل ہے۔

ریاض کے مطابق 28 فروری سے اب تک سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائل روکے جا چکے ہیں۔ خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران کے یہ حملے شہری آبادی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، جب کہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف خطے میں موجود امریکی مفادات ہیں۔

یوکرین گزشتہ چند برسوں سے روس کے خلاف جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کا وسیع تجربہ حاصل کر چکا ہے، وہ اب اس مہارت کو خلیجی ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق ملک کم لاگت مگر مؤثر انٹرسیپٹر ڈرونز بنانے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق رواں موسم سرما میں روس نے یوکرین پر انیس ہزار سے زائد ڈرون حملے کیے، جس کے باعث یوکرین کو دفاعی حکمت عملی میں مسلسل جدت لانا پڑی۔

اسی تناظر میں یوکرین نے 18 مارچ کو اپنے 201 اینٹی ڈرون ماہرین کو مشرق وسطیٰ بھیجا تاکہ ایرانی حملوں کے خلاف دفاع میں مدد فراہم کی جا سکے۔

یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ڈرونز کے خلاف کارروائی کے دوران موسمی حالات، خاص طور پر ریت کے طوفان، ایک بڑا چیلنج ہیں، تاہم مہارت اور تربیت اس میدان میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

دوسری جانب روس نے بھی یوکرین پر حملے تیز کر دیے ہیں، اور حالیہ دنوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 948 ڈرونز داغے گئے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔

اس صورتحال میں یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔