یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کا مقصد روسی عسکری اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے روستوف ریجن اور روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں میں بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ رات ملک کے مختلف علاقوں میں 555 یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا، جن میں ماسکو کی جانب آنے والے ڈرونز بھی شامل تھے۔
روسی حکام کے مطابق ڈرون حملوں کے پیش نظر دارالحکومت ماسکو میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔ ماسکو رنگ روڈ کے بعض حصوں پر ٹریفک عارضی طور پر محدود کی گئی، جبکہ شہر کے بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمد و رفت بھی کچھ وقت کے لیے متاثر رہی۔
حکام کا کہنا ہے کہ روس کے جنوبی علاقے روستوف میں ہونے والے ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ حملوں کے باعث دو تجارتی تنصیبات میں آگ لگنے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ادھر یوکرینی حکام نے روس کی جانب سے جوابی کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فوج نے دارالحکومت کیف پر میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیل نے کتنی بار معاہدے کی خلاف ورزی کی؟
یوکرینی صدر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے نام پیغام میں کہا ہے کہ جنگ طویل ہو چکی ہے اور اب فیصلہ کن اقدامات کا وقت آ گیا ہے، جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی فیصلے اور مذاکرات ضروری ہیں۔
دوسری جانب ماسکو کی جانب سے بھی بارہا کہا گیا ہے کہ یوکرین کے حملوں کا جواب دیا جائے گا اور روس اپنی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان ڈرون حملوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگی محاذ کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک ایک دوسرے کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی کارروائیاں خطے میں امن مذاکرات کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔







