عالمی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یوکرین کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا گیا کہ حملہ کولٹسوائے پائپ لائن پر کیا گیا، جو 400 کلومیٹر (تقریباً 250 میل) طویل ہے اور ریازان، نزنی نوگوروڈ اور ماسکو میں موجود ریفائنریوں سے روسی افواج کو پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول فراہم کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران ضلع رامنسکی کے قریب پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے تینوں پائپ لائنیں تباہ ہو گئیں۔ 

واضح رہے کہ یہ پائپ لائن سالانہ تین ملین ٹن جیٹ فیول، 2.8 ملین ٹن ڈیزل اور 1.6 ملین ٹن پٹرول لے جانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

یوکرین کے انٹیلی جنس چیف کریلو بڈانوف کا کہنا تھا کہ ہمارے حملوں نے روس پر اُن پابندیوں سے زیادہ اثر ڈالا ہے جو بین الاقوامی سطح پر لگائی گئی تھیں۔

دوسری جانب روس کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے پوکروسک کے مشرقی محاذ پر یوکرینی اسپیشل فورسز کی ایک ٹیم کو ناکام بنایا ہے جو روسی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔

وزارت نے ایسی ویڈیوز بھی جاری کیں جن میں دو افراد کو دکھایا گیا ہے جنہیں یوکرینی سپاہی بتایا گیا ہے۔ وہ روسی افواج کے ہاتھوں شدید لڑائی اور گھیراؤ کا ذکر کر رہے ہیں۔ تاہم ان ویڈیوز کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور یوکرینی حکام نے روسی دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

 روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی افواج نے پوکروسک کے یوکرینی محافظوں کو گھیرے میں لے لیا ہے، لیکن یوکرینی آرمی چیف اولیکسینڈر سرسکی نے کہا ہے کہ شہر میں کوئی گھیراؤ یا ناکہ بندی نہیں ہے۔

سرسکی کے مطابق، پوکروسک سے دشمن افواج کو پیچھے دھکیلنے کے لیے جامع آپریشن جاری ہے، اور سب سے بڑا بوجھ یوکرین کی مسلح افواج، خاص طور پر یو اے وی آپریٹرز اور حملہ آور یونٹوں پر ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی کہ روسی یونٹس نے شہر میں دراندازی کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یوکرین انہیں بتدریج ختم کر رہا ہے۔

زیلنسکی کے مطابق، روس نے ڈونیٹسک پر قبضے کی کوشش میں تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔